Tuesday, September 11, 2012

Class XI, Islamiat, "عقیدہ آخرت"

عقیدہ آخرت

ابتدائیہ
کاش میں نے ہوش سے کام لیا ہوتا، کاش میں فلاں کرم فرما کا مشورہ مان لیا ہوتا، میں فلاں حماقت نہ کی ہوتی، تو آج میری حیثیت ہی کچھ اور ہوتی اور اگر بے جا جوش سے کام نہ لیا ہوتا تو آج یہ خستہ حالت اور پریشانی نہ ہوتی۔
یہ کلمات جن میں حسرت ہے، افسوس بھی ہے، پشیمانی بھی ہے اور دکھ کا اظہار بھی، اکثر لوگوں کی زبان سے اس وقت سنے جاتے ہیں جب وہ ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہوتے ہیں جہاں ان کے پاس مصائب و آلام اور دکھ درد و پریشانیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اور جہاں پر موجود رہ کر و۲ہ اپنے مجروح ماضی کا صرف جائزہ لے سکتے ہیں اور اس پر ندامت و افسوس کے احساسات کا اظہار کرسکتے ہیں۔ ایسے حالات عام طور پر اس وقت رونما ہوتے ہیں جب کوئی انسان وقتِ امتحان یا فیصلے کرنے کے موقع پر یا تو غلط فیصلہ کرجاتا ہے یا پھر اپنے فیصلے پر قائم رہ کر محنت نہیں کرپاتا۔ اس تذکرہ سے یہ ثابت ہوا کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے یا اگر کچھ نہیں کرپاتا تو اس کا صلہ اسے جلد ہی مل جاتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت بھی ہے اور ہر جہت کا اصول بھی۔ یعنی انسان جو بھی کرتا ہے اس کا تعلق بعد میں آنے والی چیز سے ضرور ہوتا ہے اور پیش آنے والے حالات و واقعات انہی فیصلوں کا پھل ہوتے ہیں۔ چاہے وہ میٹھا ہو یا کڑوا۔
آخرت کے معنی بھی کچھ اسی قسم کے ہیں۔ اگر اسی سوچ کو ہم وسیع معنوں میں لیں تو ہم آخرت کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ آخرت ایک ایسا نظریہ ہے جس پر ایمان لانا اور جس کو ماننا فطرتِ انسانی اور سوچ و عقل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
آخرت کے معنی و مفہوم
لغت میں لفظ آخرت کا جو مطلب پایا جاتا ہے وہ ہے بعد میں آنے والی چیز۔ شریعت کی اصطلاح میں آخر سے مراد ہے کہ یہ دنیا ایک دن ختم ہوجائے گی اور مرنے کے بعد ایک دن تمام لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اور ان اعمال کی بنیاد پر ان کا فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ حسرت کے عالم میں جھونک دئیے جائیں یا خوشی و مسرت کی جہت میں داخل ہوں۔ اس بات پر بغیر کسی شک و شبہ کے یقین و اعمال رکھنے کو عقیدہ آخرت کہتے ہیں۔
عقیدہ آخرت پر ایمان لانے کا مطلب
آخر پر ایمان لانے کا مفہوم یہ ہے کہ ہم ان پانچ چیزوں پر مکمل ایمان لے آئیں اور بغیر کسی شک و شبہ کے ان کو تسلیم کرلیں:
(۱) ایک دن اللہ تعالی تمام عالم اور اس کی مخلوقات کو مٹا دے گا۔ اس دن کا نام قیامت ہے۔
(۲) پھر وہ سب کو ایک دوسری زندگی بخشے گا اور سب لوگ اللہ کے سامںے حاضر ہونگے۔
(۳) تمام لوگوں نے اس دنیوی زندگی میں جو کچھ کیا ہے اس کا نامہ�¿ اعمال خدا کی عدالت میں پیش ہوگا۔
(۴) اللہ تعالی ہر شخص کے اچھے اور برے عمل کا وزن فرمائے گا۔ اور اس کے مطابق بخشش یا سزا ملے گی۔
(۵) جن لوگوں کی بخشش ہوجائے گی وہ جنت میں جائیں گے۔ اور جن کو سزا دی جائے گی وہ دوزخ میں جائیں گے۔
تمام مزاہب کی تلقین
حضرت آدم عہ سے لے کر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے بھی پیغمبرانِ دین لوگوں تک اللہ کا پیغام لے کر نازل ہوئے ہیں ان سب نے آخرت کا نظریہ بالکل اسی طرح پیش کیا ہی جس طرح حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ ہرزمانے میں اس پر ایمان لانا اور اس کے مطابق اپنے اعمال کو ترتیب دینا مسلمان ہونے کے لئے لازمی شرط رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عقیدہ آخرت پر ایمان کے بغیر اسلام کی تعلیمات کو ماننا اور اس پر عمل کرنا بالکل بے معنی ہوجاتا ہے۔ اور انسان کی ساری زندگی خراب ہوجاتی ہے۔
انسانی فطرت کا تقاضہ – آخرت
کسی انسان سے جب کوئی کام کرنے کا کہاجاتا ہے تو اس کے ذہن میں سب سے پہلے یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر مجھے اس کام کا کیا فائدہ ہوگا؟ میں اسے کیوں کروں؟ اور اس کے صلے میں مجھے کیا ملے گا؟ اگر میں یہ کام نہ کروں تو مجھے کیا نقصان ہوگا؟ یہ سوالات کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ انسانی فطرت ہر ایسے کام کو لغو اور فضول سمجھتی ہے جس کا کوئی حاصل نہ ہو۔ کوئی شخص کوئی ایسا کام ہرگز نہیں کرتا جب تک کہ اس کا کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ ہی کسی ایسے کام سے پرہیز کرتا ہے جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔
اس دنیا میں ہر طبقہ فکر اس بات پر متفق ہے کہ نیکیاں کیا ہیں یا اچھے اور معروف کام کیا ہیں اور برے کام یا گناہ کے کام کیا ہیں۔ تاش، ٹی وی اور فضول کاموں کو تمام لوگ متفقہ طور پر لغو اور وقت کا زیاں سمجھتے ہیں جاہے وہ ہندو ہوں یا یہودی، نصرانی ہوں یا مسلمان۔ اسی طرح غریبوں کی مدد کرنا، صفائی کا خیال رکھنے اور اچھے اخلاق کو لوگ نیکی تسلیم کرتے ہیں۔ یہ سب فطرتِ انسانی ہے۔
اب یہ فطرتِ انسانی تقاضہ کرتی ہے کہ ہم جو نیک کام کرتے ہیں یا برے کاموں سے بچتے ہیں ان کا صلہ بھی ضرور ملنا چاہئے۔ چاہے وہ جیسے بھی اور جس صورت میں ہو۔ اسی انسانی فطرت کو مدِنظر رکھتے ہوئے دنیا کے واحد مکمل دین نے آخرت کا واضح ترین نقشہ پیش کیا اور انسانی تقاضوں کی تسکین کے لئے جنت اور جہنم بنایا اور ان کا نظریہ پیش کیا۔
قرآن مجید میں ارشان باری تعالی ہے:
جن لوگوں نے نیک کام کئے پس ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔
آخرت کے بارے میں تین نظریے
آخرت کے بارے میں تین مختلف نظریے پائے جاتے ہیں۔
(۱) ایک گروہ کہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد فنا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کا نظریہ ہے جو سائنسدان ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔
(۲) دوسرا گروہ کہتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنے کے لئے باربار اسی دنیا میں جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے اعمال برے ہیں تو دوسرے جنم میں کوئی جانور یا کوئی بدتر درجے کا انسان ہوگا۔ اگر اجھے اعمال زیادہ ہیں وہ کسی اونچے درجے پر پہنچ جائے گا۔ یہ خیال بعد خام مذاہب میں پایا جاتا ہے۔
(۳) تیسرا گروہ قیامت اور حشر اور خدا کی عدالت میں پیشی اور جزا اور سزا پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ تمام انبیائکرام کا متفقہ عقیدہ ہے۔
پہلے گروہ کے عقیدے پر غوروفکر
ایک گنوار نے اگر ہوائی جہاز نہیں دیکھا ہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہوائی جہاز کیا چیز ہے۔ لیکن اگر وہ کہے گا کہ ”میں جانتا ہوں کہ ہوائی جہاز کوئی چیز نہیں ہے۔ “ تو صاحبِ فہم افراد اسے احمق اور بےوقوف کہیں گے۔ اس لئے کہ کسی چیز کا نہ دیکھنا یہ معنی ہرگز نہیں رکھتا کہ وہ چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
کچھ اسی طرح کا حال اس نظریہ کے ماننے والوں کا بھی ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے مرنے کے بعد کسی دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا۔ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے وہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ لہذا مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے۔
اگر مرنے کے کسی نے نہیں دیکھا کہ کیا ہوگا تو وہ زیادہ سے زیادہ اتنا کہہ سکتا ہے کہ ”میں نہیں جانتا کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔“ اس سے یہ دعوی کرنا کہ ” ہم جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد کچھ نہ ہوگا۔“ بالکل بے ثبوت بات ہے اوراس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
تاریخ – سوچنے کی بات
ایک مرتبہ حضرت علی رضہ کے پاس ایک شخص آیا جو آخر کے خلاف تھا اور یقین نہ رکھتا تھا۔ حضرت علی رضہ نے اسے آخرت کے بارے مےں بہت دلائل دئے اور سمجھا کی کوشس کی لیکن وہ اپنے نظریے پر اڑا رہا اور بات نہ مانا۔ آخر کار حضرت علی رضہ نے کہا کہ چلو فرض کرو تمہاری بات درست ہوئی کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے تو ہم جو اس عقیدے کی بنیاد پر اعمال کرتے ہےں ہم کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ہم بھی مٹی میں ہمیشہ کے لئے مل جائیں گے۔لیکن بالغرض ہمارا نظریہ درست نکلا اور اللہ کے سامنے حاضری ہوگئی تو پھر تم کیا کرو گے؟ یہ سن کر وہ منکرِ آخرت لاجواب ہوگیا۔
دوسرے گروہ کے نظریے پر غورفکر
اس کے بعد دوسرے نظریے پر غور کریں تو یہ بھی خلاءمیں محسوس ہوتا ہے۔ اس عقیدے کی رو سے ایک شخص جو اس وقت انسان ہوگیا کہ جب وہ جانور تھا تو اس نے اچھے عمل کئے تھے۔ اور ایک جانور جو اس وقت جانور ہے وہ اس لئے جانور ہے کہ جب وہ انسان تھا تو اس نے برے عمل کئے تھے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے کیا چیز تھا؟ اگر کہتے ہو کہ انسان تھا تو ماننا پڑے گا کہ اس سے پہلے درخت یا حیوان تھا، ورنہ پوچھا جائے گا کہ انسان کس وجہ سے بنا؟ اگر کہتے ہو کہ درخت تھا یا حیوان تھا تو ماننا پڑے گا کہ اس سے پہلے انسان تھا! غرض اس عقیدے کے ماننے والے مخلوقات کی ابتدا کسی بھی جنم کو قرار نہیں دے سکتے۔ یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے۔
تیسرے گروہ کے نظریے پر غوروفکر
اب ہم تیسرے نظریے پر غور کرتے ہیں۔ اس نظریے میں بیان کی گیا ہے کہ:
ایک دن قیامت آئے گی اور خدا اپنے اس کارخانے کو توڑ پھوڑ کر نئے سرے سے اعلی درجہ کا پائیدار کارخانہ بنائے گا جس میں اچھے اور برے اعمال کا تجزیہ ہوگا اور اس کے مطابق جزاوسزا کا فیصلہ ہوگا۔
اس نظریہ میں پہلی بات یہ ہے کہ ایک دن قیامت آئے گی اور یہ تمام نظام کائنات فنا ہوجائے گا۔ اس بات کو کوئی بھی شخص عقل پر پرکھنے کے بعد جھٹلا نہیں سکتا۔ کیونکہ ہم جتنا اس نظام پر غور کریں اتنا ہی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ کائنات فانی ہے اور ایک دن ختم ہوجائے گی۔ سائنس کی رو سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں جتنی بھی چیزیں ہیں سب محدود ہیں اور ایک دن ختم ہوجائیں گی۔ تمام صاحبِ علم شخصیات اس بات پر متفق ہیں اور اسے تسلیم کرچکے ہیں کہ ایک دن یہ سورج ٹھنڈا ہوجائے گا اور سیارے ایک دوسرے سے ٹکرا کر فنا ہوجائیں گے۔
دوسری بات جو بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے اعلی درجے کا کارخانہ بنایا جائے گا اور تمام لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔ قرآن پاک میں ارشادِ پاک ہے:
سو کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے۔
اب سوال یہپیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن نہیں ہے؟ اگر ناممکن ہے تو اب جو زندگی حاصل ہے یہ کیسے ممکن ہوئی؟ سوچنے کی بات ہے کہ جس خدا نے انسان کو ایک مرتبہ پیدا کیا ہے وہ دوبارہ اسے زندگی کیونکر نہیں بخش سکتا؟ اور جس نے یہ کارخانہ قدرت ایک مرتبہ تخلیق کیا ہے وہ دوبارہ کیسے نیا کارخانہ نہیں بنا سکتا؟
تیسری بات جو بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی اس دنیوی زندگی کا اعمال نامہ اللہ تعالی کے حضور پیش ہوگا اور اس کے مطابق جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا۔ اب لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ اعمال نامہ کیسے بنا رہ گیا یا سب کچھ کیسے محفوظ ہوگیا۔ تو اس کا جواب خود ہی اس کے سامنے آگیا۔ جدید سائنسی تحقیق کے بعد پتہ چلا کے ہمارے منہ سے جو آوازیں نکلتی ہیں وہ ایک خاص Frequency پر نقش ہوجاتی ہے اور تاقیامت گردوپیش میں محفوظ رہتی ہیں۔ اسی طرح ہماری ہر حرکت Images کی صورت میں ہوا میں محفوظ ہوجاتی ہے۔ یعنی انسان جیسے جیسے ترقی کررہاہے اسے اس بات پر پختہ یقین ہوتا جارہا ہے کہ یہ اعمال نامہ پورا کا پورا محفوظ ہے۔
تیسرے نظریے کی صداقت
تیسرے نظریے پر ہم غوروفکر کریں تو سب سے زیادہ دل کو لگتا نظریہ یہ ہی ہے اور اس میں کوئی چےز خلافِ عقل یا ناممکن نہیں ہے۔ اگرچہ اس عقیدے پر ہمارا ایمان صرف رسول اللہﷺ کے اعتماد پر ہے، عقل پر اس کا مدار نہیں لیکن جب ہم غوروفکر سے کام لیتے ہیں تو ہمیں آخرت کے متعلق تمام عقیدوں میں سب سے زیادہ یہی عقیدہ مطابقِ عقل معلوم ہوتا ہے۔
سورة البقرہ میں ارشادِ ربانی ہے:
اور وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔
یعنی مومن ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آخرت کو صدقِ دل سے تسلیم کیا جائے۔ بقول اقبال
موت کو سمجھتے ہیں کافر اختتامِ زندگی
یہ ہے شامِ زندگی، صبح دوامِ زندگی
قرآن و حدیث کی روشنی میں
آخرت کی قدرواہمیت کا اندازہ ہم کلامِ الہی سے بھی لگا سکتے ہیں۔ ارشادِ خداوندی ہے:
جو لوگ آخرت پر ایمان لاتے ہیں وہی کتابِ الہی پر بھی ایمان لاتے ہیں۔
ایک اورجگہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
یہ دنیا تو بس عارضی فائدہ ہے اور جو آخرت ہے وہی پائیدار گھڑی ہے۔
سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
خدا کی قسم دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم مےں سے کوئی اپنی اس انگلی کو سمندر میں ڈالے اور اور پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹا ہے۔
عقیدہ آخرت کے فوائد
آخرت کا انکار یا اقرار انسان کی زندگی میں فیصلہ کن اثر رکھتا ہے۔ اس کے ماننے والے اور نہ ماننے والے میں بہت بڑا فرق ہو جاتا ہے۔ ایک کے نزدیک نیکی وہ ہے جس کوئی اچھا نتیجہ اس دنیا کی ذرا سی زندگی میں حاصل ہوجائے۔ مثلاً کوئی عہدہ مل جائے، کوئی خوشی حاصل ہوجائے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شخص کے نزدیک نیکی وہ ہے جس سے خدا خوش ہو اور بدی وہ ہے جس سے خدا ناراض ہو۔ اسے اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ اگر وہ اس مختصر زندگی میں سزا سے بچ گیا اور چند روز مزے لوٹتا رہا تب بھی آخر کار خدا کے عذاب سے نہ بچے گا۔ غرض یہ کہ عقیدہ آخرت پر ایمانِ کامل
رکھنے والے شخص کو بہت سے اخروی دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
(۱) بہادری و سرفروشی
ہمیشہ کے لئے مٹ جانے کا ڈر انسان کو بزدل بنادیتا ہے۔ مگر دل میں جب یہ یقین موجود ہو کہ دنیوی زندگی ناپائیدار ہے اور اخروی زندگی دائمی ہے تو یہ احساس انسان کو بہادر بنادیتا ہے اور وہ اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے سے بھی نہیں کتراتا۔
(۲) صبروتحمل
عقیدہ آخرت پر ایمان سے انسان کے دل میں صبروتحمل پیدا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حق کی خاطر جو بھی تکلیف برداشت کی جائے گی اس کا صلہ آخرت میں ضرور ملے گا۔ لہذا آخرت پر نظر رکھتے ہوئے وہ ہر مصیبت کی گھڑی میں صبروتحمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔
(۳) نیکی سے رغبت
جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کے تمام اعمال اس کے نامہ�¿ اعمال میں محفوظ کرلئے جاتے ہیں اور آخرت میں اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ یہ احساس اسے نیکی کی طرف مائل کرتا ہے۔
(۴) مال خرچ کرنے کا جذبہ
عقیدہ آخرت انسان کے دل میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ آخرت کی زندگی دائمی زندگی ہے جو بعدالموت شروع ہوتی ہے۔ یہ احساس اسے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب کرتا ہے تاکہ اس کی اخروی زندگی سنور جائے۔
(۵) احساسِ ذمہ داری
آخرت پر ایمان رکھنے سے انسان میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اپنے فرائض سے کوتاہی جرم ہے جس کی آخرت میں سزا ملے گی۔ لہذا وہ پوری ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کرتا ہے۔
(۶) پاکیزہ معاشرے کی تشکیل
اگر معاشرے کے تمام لوگ عقیدہ آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہوں تو اس سے معاشرے میں ایک اچھی فضا قائم ہوتی ہے اور ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
(۷) برائیوں کا خاتمہ
ایسے افراد پر مشتمل معاشرہ جو عقیدہ آخرت کے ماننے والے ہوں برائیوں سے پاک ہوتا ہے۔ آخرت پر ایمان رکھنے سے لوگوں میںیہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ جو برائیاں کر رہے ہیں اس کی سزا انہیں آخرت میں ملیں گی۔ چنانچہ وہ برائیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
(۸) باہمی اخوت و مساوات کا فروغ
عقیدہ آخرت پر یقین رکھنے سے مسلمانوں میں باہمی اخوت و مساوات پیدا ہوتی ہے۔ عقیدہ آخرت ان میں یہ احساس اجاگر کرتا ہے کہ تمام انسان اللہ کی نظر میں برابر ہیں۔ بہتر صرف وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار اور متقی ہے۔
حروفِ آخر
عقیدہ آخرت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس پر ایمان لاکر انسان دنیاوآخرت میں رضائے الہی کے مطابق زندگی بسر کرسکتا ہے اور ایک ایسا کردار تشکیل کرتا ہے جس سے اسے قربتِ الہی کا حصول ہو۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس عقیدہ کو بنیاد بنا کر اپنی زندگی کا ہر فعل تشکیل دیں تاکہ روزِ آخرت جنت کے مستحق ٹہریں۔ اللہ تعالی کبھی وعدہ خلافی نہیں فرماتا اور اللہ کا وعدہ ہے کہ:
بے شک نیک لوگ بہشت میں ہوں گے اور بے شک گناہ گار دوزخ میں۔
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضہ نے فرمایا:
کل حشر کے میدان میں اگر یہ اعلان کہ ایک شخص کے سوا سب کو جہنم میں جھونک دو، تو مجھے خدا کی رحمت سے امید ہی کہ جہنم سے بچنے والا وہ شخص میں ہی ہوں گا۔ اور اگر یہ علان ہوجائے کہ ایک شخص کے سوا سب کو جنت میں لے جاو، تو اپنے اعمال کو دیکھتے ہوئے مجھے یہی اندیشہ ہے کہ خدانخواستہ وہ شخص میں ہی ہوں گا۔
فاروق اعظم رضہ کے یہ الفاظ بار بار پڑھنے کے لائق ہیں، جن سے عقیدہ�¿ آخرت پر مکمل ایمان نظر آتا ہے۔ اور جس کی بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے عظیم خلیفہ بنے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم بھی اپنے اندر آخرت کے لئے یہی کیفیت پیدا کریں تاکہ رضائے الہی ہمارا مقدر بنے اور ہم آخرت میں سرخرو ہوسکیں۔

No comments:

Post a Comment