Wednesday, September 12, 2012

Class XI, Islamiat, "اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم"

اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم

ابتدائیہ
رسولِ خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ایک واسطہ ہے جس کے ذریعے خدا اپنے احکام بندوں تک پہنچاتا ہے اس حقیقت کے پیشِ نظر دین و دنیا میں انسان کی کامیابی صرف ایسے اعمال میں مضمر ہے جن سے خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔ اللہ نے رسول کو انسانوں کی ہدایت کے لئے ذریعہ قرار دیا ہے۔ رسول انسانوں کو خدا کی رضا حاصل کرنے کے طریقے بتاتا ہے اور ان باتوں سے روکتا ہے جن سے خدا ناخوش ہوتا ہے۔
رسول دین اور شریعت کے طور پر جو کچھ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اس میں رسول کی مرضی شامل نہیں ہوتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر کہ پچھلی امتوں نے اپنے انبیاءکی تعظیم و کریم کرتے کرتے انہیں خدائی کے مرتبے تک پہنچا دیا۔ اس بات کا بڑا خیال رکھا کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی بے جا تعظیم نہ کریں جس سے فتنہ پیدا ہو۔ کئی بار لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدہ کرنے کی اجازت چاہی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے روک دیا اور بار بار خدا کے سامنے اپنی بندگی اور بے چارگی کا اعلان کیا۔ بعض لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ نبی کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ کی کتاب انسانوں تک پہنچا دے اور بس لیکن رسولوں کا کام اتنا ہی ہوتا تو خدا یہ کام دوسروں سے بھی لے سکتا تھا۔ آخر اس کے لئے یہ کیا مشکل تھا کہ لوگوں پر لکھی لکھائی کتابیں نازل کردیتا۔ یا فرشتوں کے ذریعے کتب بھیج دیتا۔
اس طرح حضرت نوح عہ نے فرمایا:
میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے قبضے میں خدا کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں۔ اور نہ میں یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔
لیکن چونکہ شہادت حق کا کام بڑا وسیع ہے۔ لہذا اللہ تعالی نے انبیاءاور رسول بھیجے۔ ان انبیاءکی ذمہ داری اور ان کے مناسک کیا تھے۔ اس سلسلے مےں ہم قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ اس میں انبیاءکی کیا حیثیت بیان کی گئی ہے۔
قابلِ اطاعت
قرآن مجید کی رو سے نبی کی مکمل اطاعت اور پیروی ضروری ہوتی ہے اور دین و شریعت کے دائرے میں وہ جو کچھ کہتا ہے ایک مومن کا فرض ہے کہ اس کی تعمیل میں حیل و حجت نہ کرے اور مصلحت اور خواہ اس کی سمجھ میں آئے نہ آئے۔ ہر صورت میں یقین رکھے کہ خیر ہے اور سراپا حق ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے کہ:
ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اس لئے بھیجا کہ ازن خداوندی کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے۔
پھر یہ اطاعت بھی صرف ظاہر کی حد تک نہیں ہونی چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقِ اطاعت کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ:
پس اے نبی تمہارا رب گواہ کے کہ یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس کے تمام معاملات میں تمہیں حکم نہ بتائیں اور پھر تمہارے فیصلہ پر بلا کسی تنگ دلی کے آمادگی کے ساتھ سر تسلیم خم نہ کردیں۔
اور یہ بات عقل کے مطابق بھی ہے۔ اسی لئے اگر انسان کے لئے اللہ تعالی کے احکام کو جاننے کا واحد ذریعہ نبی ہی ہے تو نبی کی کامل اطاعت اور پیروی کے بغیر اللہ کی اطاعت و بندگی کی کوئی شکل نہیں رہ جاتی یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی دعوت کے ساتھ یہ مطالبہ کیا:
اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
اور یہ بھی فرمایا گیا کہ:
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
شارعِ کتاب اللہ
اللہ تعالی کی شریعت چونکہ ہمیشہ رہنے کے لئے ہے لہذا کتاب اللہ میں طریقہ اور اصول دیا گیا ہے اور اللہ تعالی کی شریعت چونکہ ہمیشہ رہنے کے لئے ہے چنانچہ کتاب اللہ میں دیا گیا طریقہ اور اصول اور اللہ کے پیغمبر کے ذمے یہ کام دیا گیا ہے کہ وہ ان کی تشریح کریں۔ سورة انحل میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
اور ہم نے یہ ذکر (قرآن) تمہاری طرف اس لئے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے لئے اس ہدایت کو واضح کردو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔
یہ بات ظاہر ہے کہ تشریح خود کتاب کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے نہیں ہوتی بلکہ تشریح کرنے والا اس کے الفاظ سے زائد بھی کچھ کہتا ہے تاکہ سننے والا بھی کتاب کا مقصد پوری طرح سمجھ سکے۔
معلم و تربی
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ:
بلاشبہ اللہ تعالی نے مسلمانوں پر احسان فرمایا ہے کہ خود انہیں میں سے ایک رسول خود مبعوث کیا ہے جو اسکی ہدایت پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
اللہ تعالی نے اپنے رسول کو صرف قرآن کی آیات سنانے کے لئے نہیں بھیجا تھا بلکہ اس کے ساتھ بعثت کے تین مقاصد تھے۔
(۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیں۔
(۲) اس کتاب کے منشا کے کتاب کام کرنے کی حکمت سلجھائیں۔
(۳) افراد کا انفرادی طور پر اور ان کی اجتماعی حقیقت کا بھی تزکیہ کریں۔ یعنی اپنی ترکیب سے ان کے اجتماعی اور انفرادی خرابیوں کو دور کریں اور ان کے اندر اچھے اور صاف اور بہتر اجتماعی نظام کی نشونما دیں۔
پیشوا، نمونہ تقلید
اللہ نے پیغمبروں کو ہادی رہنما اما و پیشوا بنایا ہے۔ یعنی نبوت اور وحی سے سرفراز ہونے کے بعد ان کی ذات مجسمہ میں ہدایت اور رہنمائی امامت اور پیشوائی کے لئے خاص ہوجاتی ہے وہ سب امت میں مبعوث ہوجاتے ہیں۔ اس کے سامنے ہدایت و رہنمائی کے دو چراغ ایک کتاب اللہ اور دوسری سنت رسول ان کی روشنی مل کر ایک ہوتی ہے۔ سورة ال عمران میں بھی فرمایا گیا ہے کہ:
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! کہہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گااور اللہ غفورالرحیم ہے۔ کہو اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پھر اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو اللہ تعالی کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
اسی طرح سورة الاحزاب میں فرمایا:
تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تقلید موجود ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں سے ایک حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا:
میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور اپنی سنت۔
شارع قانون ساز
قرآن مجید میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وہ ان کو معروف کا حکم دیتا ہے اور منکر سے روکتا ہے اور ان کے لئے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور بندھن اتار دیتا ہے جو ان پر چڑھے ہوئے ہیں۔
اس آیت میں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شریعی اختیارات عطا کئے ہیں۔ اللہ کی طرف سے امر اور نہی اور حلال اور حرام صرف وہی ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہوتے ہےں۔ بلکہ جو کچھ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال اور حرام قرار دئیے ہےں اور جس چیز کا حکم دیا ہے جس سے منع فرمایا ہے وہ بھی اللہ تعالی کے دیئے ہوئے اختیارات ہےں۔ اس لئے وہ بھی قانونِ خداوندی فکا حصہ ہے۔ یہی بات سورةالحشر میں پوری صداقت کے ساتھ بیان ہوئی ہے:
جوکچھ رسول تمہیں دے اسے لے لو اور جس چےز سے منع کرے اس سے رک جاو اور اللہ سے ڈرو اور بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
قاضی اور حکیم
قرآن مجید میں بے شمار جگہوں پر اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قاضی اور حکیم فرمایا ہے:
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرو جیسا کہ اللہ تمہیں دکھائے۔
مومن کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ جب رسول کے فیصلے کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا اور اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے کہ:
مومنین کی شان یہ ہے کہ جب اللہ کا رسول تمہیں کسی معاملے میں کوئی حکم دے تو اسے بشرو چشم تسلیم کرلیتے ہیں اور ان کے دل مےں فیصلے کے خلاف ذرا بھی تنگی نہیں ہوتی۔

No comments:

Post a Comment